- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

اہل سنت مہاباد کے حالات پر ایک نظر

mahabadایرانی اہل سنت کے اہم شہر ’’مہاباد‘‘ آبنائے ارومیہ کے جنوب میں ایک تنگ وادی میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے ۱۳۰۰ میٹر اوپر یہ شہر صوبہ ’’آذربائیجان غربی‘‘ (شمال مغرب ایران) میں آتا ہے۔ مہاباد بری راستے سے ’’تبریز‘‘ سے ملتا ہے جو ۳۰۰ کلومیٹر دور اس کے شمال میں واقع ہے۔ مہاباد عراقی کردستان کے شہر ’’اربیل‘‘ اور ایرانی صوبہ مغربی آذربائیجان کے صدر مقام ’’ارومیہ‘‘ سے ۱۵۰ کلومیٹر دور ہے۔

مہاباد میں زیادہ تر سورانی کرد رہتے ہیں جو کردی کے مختلف لہجوں میں ’’مکریانی‘‘ لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس علاقے کا شمار ملک کے مغرب میں ایرانی سنیوں کے اہم ترین مراکز میں ہوتا ہے۔ مہاباد شہر میں شیعہ برادری کی بہت کم تعداد آباد ہے جو در اصل دیگر صوبوں اور شہروں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔
آخری سرکاری مردم شماری کے مطابق جو ۲۰۰۶ء میں ہوئی مہاباد شہر کی کل آبادی ۱۹۷ ہزار ہے۔ اس شہر میں ۷۲ مساجد سرگرم ہیں جبکہ آس پاس میں ۱۸۵ مسجدیں پائی جاتی ہیں۔

مہاباد کی تاریخ پر ایک نظر:
مہابادکا اصلی نام ’’ساوچبلاغ‘‘ تھا جو ترکی زبان کا لفظ ہے، مہاباد لہجے میں اسے ’’سابلاغ‘‘ کہا جاتا ہے۔ رضا خان نے اپنے دور میں اس کا نام بدل کر ’’مہاباد‘‘ رکھ دیا۔ اس لفظ کے معنی کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے جو سب قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ یہ علاقہ صفویوں اور عثمانیوں کی لڑائیوں کے لیے میدان جنگ بنا رہا، مقامی سردار و حکمران دو طاقتوں میں سے جس کو زیادہ طاقت ورپاتے اسی کا ساتھ دیتے، پانی کا بھاؤ دیکھ وفاداریاں بدلتے رہتے تھے۔ یہ خطہ ایک عظیم زلزلے کے نتیجے میں پوری طرح ویران ہوگیا تھا جو بعد میں دوبارہ آباد ہوا۔ شہر کے ارد گرد اب بھی آثار قدیمہ کی بہتات ہے۔
کرد قوم کے لیے مہاباد قومی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شہر ایران کے شمال مغرب میں پیدا ہونے والی جمہوری ریاست کا دارالحکومت تھا۔ یہ چھوٹی کرد ریاست سابق سوویت یونین کی مدد سے ۱۹۴۶ء کو وجود میں آئی مگر عالمی سطح پر اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ در حقیقت امریکا اور سوویت یونین میں ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے رسہ کشی اور سبقت لینے کی کوشش کے نتیجے میں کرد رہ نما مصطفی بارزانی اور قاضی محمد کو الگ ریاست کے قیام کی فرصت ملی۔ انہوں نے ۲۲ جنوری ۱۹۴۶ء میں اس ریاست کے قیام کا اعلان کیا جو گیارہ مہینہ تک قائم رہی۔ امریکی دباؤ پر سوویت یونین کی افواج انخلا پر مجبور ہوئیں جس کے بعد رضا خان نے مہاباد ریاست کو ختم کرکے ۳۱ مارچ ۱۹۴۷ء کو قاضی محمد مہابادشہر میں سرعام پھانسی دی جبکہ مصطفی بارزانی اپنے جنگجووں کیساتھ بھاگنے پر مجبور ہوا۔

مہاباد موجودہ دور میں:
اگرچہ تاریخی لحاظ سے مہاباد بہت پرانا شہر نہیں ہے لیکن اس کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی خصوصیات نے کرد علاقوں میں اسے ایک ممتاز حیثیت دی ہے۔ اس شہر کی شہرت کی وجہ یہاں پیدا ہونے والی عبقری شخصیات ہیں جس کی وجہ سے مہاباد معاصر تاریخ میں انتہائی اہم شہر شمار ہوتا ہے۔ ان نابغہ ہائے روزگار کے علاوہ مہاباد کے منفرد جغرافی لوکیشن نے اس کی اہمیت مزیدبڑھائی ہے۔
سابق حکومت (پہلوی) کو اس کی منفرد اہمیت کا اندازہ تھا چنانچہ یہان متعدد عمرانی و فلاحی منصوبوں کا اجرا عمل میں لایا گیا، متعدد شخصیات پہلوی دور میں اہم مناصب پر فائز ہوئیں، البتہ رضا خان کی غلط پالیسی جو دیگر قومیت اور زبان کے لوگوں کی یہاں آباد کاری پر مبنی تھی بہت سارے مسائل کا باعث بنی۔ متعدد تحریکیں اٹھیں اور بغاوت کی صدائیں بلند ہوئیں۔ پہلوی حکام نے کرد بغاوت کو بری طرح کچل دیا۔
پہلوی حکومت کے خاتمے اور ۱۹۷۹ء کے عوامی انقلاب کے باوجود مہاباد کے مسائل ومصائب ختم نہیں ہوئے، بلکہ دیگر سنی اکثریت شہروں کی طرح یہاں بھی دن بہ دن مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا۔ دیگر صوبوں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں یہاں منتقلی اور آباد کاری نے مقامی لوگوں کی شناخت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بیروزگاری مہاباد سمیت متعدد دیگر علاقوں کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسی طرح انقلاب کے بعد مہاباد کے تعلیم یافتہ اور اعلی ڈگری کے حامل افراد کو کلیدی مناصب و عہدوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں مہاباد کی ایک عظیم علمی شخصیت کو مجلس شورا (پارلیمنٹ) کے ممبر ہونے کے لیے ’’نا اہل‘‘ قرار دیا گیا۔ روزگار کے حوالے سے مقامی اور غیر مقامی آباد کاروں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ مقامی نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ علمی و اکیڈمک شخصیات کو نظر انداز کرنے کی پالیسی جاری ہے۔
اس لیے اگر مہاباد کے روشن ماضی کو حال سے موازنہ کیا جائے تو بہت بڑی خلیج نظر آتی ہے۔ اصحاب فکر و نظر کو حالات میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے جد و جہد کرنی چاہیے۔
امید ہے مرکزی و مقامی حکام بھی اپنی پالیسیوں او کارکردگی پر نظر ثانی کرکے مہاباد کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔