- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

ایران ’’درگز‘‘ خطے کے سنی علاقے

daregazصوبہ خراسان کے شمالی علاقے میں واقع ’’درگز‘‘ کا خطہ ایران کے شمال مشرق میں واقع ہے، یہ علاقہ ترکمانستان کے بارڈر پر محیط ہے جس کا موسم معتدل ہے۔ درگز ’’مشہد‘‘ شہر سے 270 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو جو ’’قوچان‘‘ شہر کے درمیان سے گزرتا ہے۔

تاریخی کتابوں میں ’’درگز‘‘ کو دیگر ناموں سے بھی یاد کیا گیا ہے، جیسا کہ: دارا، دارگرد، باورد، داراگز، درجز، دریجز، ابیورد اور اسی طرح ’’محمد آباد‘‘ جن کا خطے سے کوئی مناسبت نہیں ہے کہ یہاں جنگلات اور اونچے درختوں کی بہتات ہے۔
البتہ معروف کتاب ’’خاوران، گوہر ناشناختہ ایران‘‘ کے مؤلف کی پیش کردہ دلیل زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے، کتاب میں آتا ہے: ’’اس خطے کا ’’درگز‘‘ نام رکھنے کی کہانی میلاد مسیح سے تین صدیاں پہلے کی ہے جب اشکانی اقتدار پر قابض تھے۔ بغداد میوزم میں رکھے ایک مجسمہ موجود ہے جو کسی اشکانی بادشاہ کا ہے، اشکانیوں نے درگز یا دارا کرد کی تاسیس کی وجہ سے اس کا مجسمہ بنایا تھا۔
درگز شہسواروں، پہلوانوں اور اہل علم وعرفان کا علاقہ ہے جن میں ابوسعید، انوری، نادر، فضیل بن عیاض (امام الحرمین) اور شہرہ آفاق کتاب ’’الملل والنحل‘‘ کے مؤلف علامہ شہرستانی رحمہم اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

سنی اکثریت علاقے:
ترک اہل سنت کی تقریبا 5 فیصد آبادی درگز اور اس کی آس پاس بستیوں میں آباد ہے جبکہ شہر میں اب سات ہزار سنی افراد رہتے ہیں۔
قومی شاہراہ سے پچاس کلومیٹر دور ’’کلاتہ چنار‘‘ آتا ہے، اس گاؤں کے قریب پھر مزید چھ بستیاں ہیں، ان تمام بستیوں کی آبادیاں اہل سنت کے مسلک پر ہیں۔ یہاں موسم درمیانی اور پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑے درخت وجنگلات پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ ترکمانستان کے دارالحکومت ’’عشق آباد‘‘ کے قریب میں ہے چنانچہ رات کی تاریکی میں عشق آباد شہر کی روشنیاں اونچے مقامات سے نظر آتی ہیں۔
مذکورہ بالا بستیوں سے 35 کلومیٹر دور سنی مسلمانوں کی بعض اور بستیاں آباد ہیں، جیسا کہ شیخھا وتکن، سنگ سوراخ اور شیخ وانلوا، یہ بستیاں ایک نہر کے کنارے پر واقع ہیں اور اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش کیتھے باڑی ہے۔
’’درگز‘‘ سے 12 کلومیٹر دور ’’نوخندان‘‘ سٹی آتا ہے جس میں 200 سنی افراد رہائش پذیر ہیں، ان کی ایک جامع مسجد بھی ہے جہاں جمعے کی نماز ادا کی جاتی ہے۔
درگز میں اہل سنت کی صرف ایک مسجد ہے حالانکہ سنیوں کے چارسو خاندان اس شہر میں آباد ہیں۔ سنیوں کی دیگر بستیوں میں چقر، گل خندان، خیر آباد، میرقلعہ اور لطف آباد سٹی کا نام قابل ذکر ہے۔
جہاں تک مساجد کی بات ہے تو بعض علاقوں میں اہل سنت کی اپنی مسجدیں ہیں جبکہ بعض جگہوں پر سنی مسلمان ’’امام بارگاہوں‘‘ میں نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔
یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ اس پورے خطے میں صرف پانچ سنی علماء رہتے ہیں، یہاں بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں چالیس یا پچاس سالوں سے کوئی عالم دین نہیں رہ چکا ہے مگر یہ کہ تبلیغی جماعت کے کارکن یا دینی مدارس کے طلباء جو رمضان المبارک میں امامت و تبلیغ کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
ابھی تک اس خطے کی دینی تربیت و ترقی کیلیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے۔
’’درگز‘‘ کے ترکمانستان کے ساتھ مشترکہ بارڈر 155 کلومیٹر پر محیط ہے اور روزانہ ساٹھ یا ستر تجارتی ٹرک اور سرف گاڑیاں سرحد پار کرتی ہیں۔
اس علاقے میں آباد لوگ ترک، کرد، زابلی اور یزدی ہیں اور اکثر ترکی، کردی اور فارسی بولتے ہیں۔ درگز کے آس پاس تیس بلوچ خاندان بھی آباد ہیں جو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت سے دوری کی وجہ سے بلوچی زبان بھول چکے ہیں۔
اللہ تعالی اس خطے سمیت تمام علاقوں کو ظاہری ومعنوی ترقی سے مالا مال کرے۔