Categories: مشرق وسطی

سوئس حکومت نے حسنی مبارک اور ان کے مقربین کے اثاثے منجمد کر دیے

دبئی(العربیہ) سوئٹزر لینڈ کے محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے سابق مصری صدر حسنی مبارک ،ان کے خاندان اور دیگر مقربین کے بنک اکاٶنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ سوئس محکمہ خارجہ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ منجمد کیے گئے اثاثوں کی مجموعی طور پر کتنی مالیت ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق سوئس وزارت خارجہ کے ترجمان لارس نوچیل نے میڈیا کو بتایا کہ “حکومت نے حسنی مبارک کے منصب صدارت سے علاحدگی کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے تمام بنک اکاٶنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ کی فیڈرل کونسل نے سفارش کی ہے کہ سابق مصری صدرحسنی مبارک اور ان کے خاندان و مقربین کے تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا ہے تاکہ مصری حکومت کی اجازت کے بغیر رقوم کی غیر قانونی طور پر منتقلی کی راہ روکی جا سکے۔ مصر کی نئی حکومت کی جانب سے سفارش کیے جانے کے بعد منجمد اکاٶنٹس کھولےجا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ سوئس حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب حسنی مبارک اپنے تیس سالہ دور اقتدار سے الگ ہو گئے ہیں۔ ان کے مقربین اور رشتہ داروں کی بڑی تعداد پہلے ہی ملک چھوڑ چکی ہے۔
دو روز قبل برطانوی اخبار”دی گارڈین” نے ایک رپورٹ میں سابق مصری صدرحسنی مبارک کے اثاثوں کی مقدار 70 کروڑ ڈالرز بتائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق حسنی مبارک کے بیرون ملک سویڈن، سوئٹزر لینڈ، فرانس اور برطانیا میں بنک اکاٶنٹس موجود ہیں جہاں خطیر رقوم رکھی گئی ہیں۔ اس کےعلاوہ امریکا میں حسنی مبارک کے خاندان کی جائیداد بھی ہے۔ بیرون ملک جائیداد کے علاوہ صدر مبارک ساحلی شہر شرم الشیخ میں بھی ایک بڑی جائیداد کے مالک ہیں۔
امریکا میں پرنسٹن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے استاد پروفیسر امانی جمال نےصدرمبارک کے اثاثوں کی مالیت 40 سے 70 کروڑ ڈالرز کے درمیان بتائی ہے۔ پرفیسر جمال کاکہنا ہے کہ صدرحسنی مبارک کے کل اثاثے بعض خلیجی ممالک کل مجموعی خزانے سے بھی زیادہ ہیں۔
سابق صدر حسنی مبارک کے جائیداد کے چرچے ایک ایسے وقت میں منظر عام پرآئے ہیں جب دوسری جانب لیبیا کے صدر معمر قذافی نے انہیں ایک “مسکین” شخص قرار دیا ہے۔ ایک ایک بیان میں کرنل معمر قذافی کا کہنا ہے کہ صدر حسنی مبارک ایک “سفید پوش” انسان ہیں اور ان کے پاس اپنے کپڑے خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں۔
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago