Categories: پاکستان

لاپتا افراد بازیا ب نہ ہوئے تو خفیہ اداروں کیخلاف مقدمات درج کرینگے‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو ہر سماعت پر حاضر ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتا افراد کی عدم بازیابی کی صورت میں خفیہ اداروں کے خلاف اغواءکے مقدمات درج کیے جائیں گے۔

جسٹس راجا فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے ساتھ ہر گز مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا ‘جنہوں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا انہیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا۔ ملک میں جنگل کا قانون نہیں ہے۔
جسٹس راجا فیاض اور جسٹس انور ظہیر جمالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی ۔اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق اور سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر پیش ہوئیں۔
اٹارنی جنرل نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پیش کی۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ کمیشن کی رپورٹ فراہم کی جائے تاہم اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس کے چند حصے بہت حساس ہیں‘ فراہم نہیں کیے جاسکتے‘ عدالت نے حکم دیا کہ ان حساس حصوں کے متعلق عدالت کو بتایا جائے اور یہ حصے چھوڑ کر باقی رپورٹ درخواست گزاروں کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے ۔
بینچ کے سربراہ جسٹس راجا فیاض نے کہا کہ آئین شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اغواءکا ثبوت جس کے خلاف بھی ملا چاہے وہ حساس ادارے سے متعلق ہی کیوں نہ ہو اس کے خلاف اغواءکا مقدمہ درج ہوگا ۔قانون سے مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا اغواءکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی ہوگی جنہوں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے‘ انہیں آئین کے ماتحت چلنا ہوگا۔ ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے‘ ان حالات میں کون کہے گا کہ ہم مہذب معاشرہ میں رہتے ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان سے کہا کہ لاپتا افراد کو بازیاب کرائیں‘ جب تک تمام افراد بازیاب نہیں ہوتے عدالت کی کارروائی جاری رہے گی۔
عاصمہ جہانگیر نے بتایا کہ مزید 4 افراد 21 دسمبر کو اغواءہوگئے ہیں ۔لاپتا افراد کی کل تعداد 235 تھی جن میں سے 174 ٹریس ہوئے ہیں۔
عدالت کے مطابق درخواست گزاروں نے کہا کہ شہریوں کو لاپتا کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے‘ حساس ادارے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں ‘عدالتی احکامات نہیں مانے جارہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا ذہنی تشدد ہے‘ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم آئی ایس آئی کے خلاف احکامات جاری کریں اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بلائیں‘ ڈ جی ایس آئی آئی کو بلانے سے عدالت کو کوئی نہیں روک سکتا ۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ آئی ایس آئی کے عہدے داروں کے ساتھ بیٹھیں‘ ان سے بات کریں 50 فیصد کیس تو اس طرح حل ہوجائیں گے‘ یہ عوامی نوعیت کا اہم معاملہ ہے اسے پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے متعلق ہے دونوں سیکرٹری ہر سماعت پر عدالت میں حاضر ہوں۔ عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago