لاہور (آئی این پی) لاہور کے معروف علماء کرام کے ساتھ ساتھ محکمہ اوقاف کے سرکاری خطیبوں نے مذہبی حلقوں کے ردعمل سے بچنے کے لئے قاتلانہ حملے میں اپنے محافظ کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔
گزشتہ رات یہ اعلان کیا گیا تھا کہ بادشاہی مسجد کے خطیب عبدالخبیر آزاد گورنر پنجاب کا نماز جنازہ پڑھائیں گے تاہم رات گئے ان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ لاہور میں نہیں ہیں اس لئے وہ نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے تاہم ذرائع کے مطابق وہ نماز جنازہ پڑھانے سے بچنے کے لئے فوری طور پر لاہور سے باہر چلے گئے۔
بادشاہی مسجد کے خطیب کے علاوہ داتا دربار کی مسجد کے خطیب قاری رمضان سیالوی‘ جامع حنفیہ کے خطیب قاری عارف سیالوی کے علاوہ گورنر ہاؤس کی مسجد کے خطیب قاری اسماعیل نے بھی سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مقتول گورنر پنجاب کی طرف سے توہین رسالت کے قانون کو کالا کہنے اور توہین رسالت کی مبینہ طور پر مرتکب عیسائی خاتون کی حمایت پر گورنر پنجاب کے خلاف جو عوامی ردعمل پایا جاتا ہے اور خاص طور پر تمام مکاتب ِ فکر کے علماء کرام اس معاملہ پر تحریک ناموس رسالت کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں اس لئے بھرپور کوششوں کے باوجود لاہور کے نہ تو کسی معروف عالم دین اور نہ ہی کسی بڑے سرکاری خطیب کو گورنر سلمان تاثیر کا نماز جنازہ پڑھانے کے لئے رضامند کیا جا سکا جس پر پیپلز پارٹی پنجاب علماء ونگ کے جنرل سیکرٹری علامہ افضل چشتی نے نماز جنازہ پڑھائی۔
بادشاہی مسجد کے خطیب کے علاوہ داتا دربار کی مسجد کے خطیب قاری رمضان سیالوی‘ جامع حنفیہ کے خطیب قاری عارف سیالوی کے علاوہ گورنر ہاؤس کی مسجد کے خطیب قاری اسماعیل نے بھی سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مقتول گورنر پنجاب کی طرف سے توہین رسالت کے قانون کو کالا کہنے اور توہین رسالت کی مبینہ طور پر مرتکب عیسائی خاتون کی حمایت پر گورنر پنجاب کے خلاف جو عوامی ردعمل پایا جاتا ہے اور خاص طور پر تمام مکاتب ِ فکر کے علماء کرام اس معاملہ پر تحریک ناموس رسالت کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں اس لئے بھرپور کوششوں کے باوجود لاہور کے نہ تو کسی معروف عالم دین اور نہ ہی کسی بڑے سرکاری خطیب کو گورنر سلمان تاثیر کا نماز جنازہ پڑھانے کے لئے رضامند کیا جا سکا جس پر پیپلز پارٹی پنجاب علماء ونگ کے جنرل سیکرٹری علامہ افضل چشتی نے نماز جنازہ پڑھائی۔