اپنے خطبے کے پہلے حصے میں قرآنی آیت: “وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا إِنَّمَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ” کی تلاوت کے بعد مولانا عبدالحمید نے دنیا کے فانی ہوئے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا اللہ تعالی نے اس آیت میں دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کی بقا کو بیان فرمایا ہے۔ قرآن نے ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت کونکالنے کی کوشش کی ہے۔
دنیا ہماری ضرورت ہے لیکن اس میں فائدے ونقصان دونوں ہیں۔ قرآن نے دنیا کے عیبوں اور نقصانات کو بیان کیا تا کہ اس کی محبت ہمارے دلوں میں ٹھکانہ نہ لگائے۔ اس دنیا کی سب سے بڑی کمزوری اس کی فنا ہے، یہاں شاندار گاڑیاں، کپڑے، باغ اور محل وبنگلے سب فانی وختم ہونے والی چیزیں ہیں۔
مولانا عبدالحمید جو جامع مسجد مکی کی توسیع کے لیے کھدائے گئے گڑھے میں خطبے دے رہے تھے، نے بات آگے بڑھائی: یہ دنیا فانی ہے لیکن آخرت اور اس کے متعلقات باقی وہمیشگی ہیں۔ ’باقیات صالحات‘ کو اللہ تعالی نے بہترین اعمال قرار دیا ہے۔ باقیات صالحات میں نماز، زکات، حج، اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرنا، تلاوت قرآن اور فی سبیل اللہ نفقہ کرنا جیسے اعمال آتے ہیں۔
دنیا کی دوسری کمروزی یہ ہے کہ ’’بہت کم‘‘ ہے، قرآن میں آتا ہے: ’’قل متاع الدنیا قلیل‘‘؛ تو دنیاوی لذات بہت کم ہیں، لیکن اللہ کی عبادت اور اچھے اعمال باقی وہمیشگی ہیں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے تاکید کرتے ہوئے کہا قرآن پاک نے دنیا کی کمزوریوں اور عیبوں کو اس لیے بیان فرمایا تا کہ ہم اس کا دلدادہ نہ بن جائیں، مادیات کی محبت ہمارے دلوں میں نہ آئے۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، نیک اعمال اور جنت کی محبت دلوں میں آجائے۔
اپنے خطبے کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا شمار صحابہ کرام اور اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات میں ہوتا ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ مادی مفادات حاصل کرنے کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ انصاف کے نفاذ اور حق سے دفاع کے لیے اٹھے تھے، آپ نے ظلم کیخلاف آواز اٹھائی۔ اللہ تعالی نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام بلند فرما دیا اور انہیں عزیز کردیا۔ حسین کی عزت ہمیشہ باقی رہے گی جبکہ آپ کے دشمن ہمیشہ کے لیے خوار ورسوا رہیں گے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…