- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

اہل سنت بوشہر کے حالات پر ایک نظر

bushehrصوبہ ”بوشہر“ Boushehr ایران کے جنوب میں واقع ہے۔ صوبے کا کل رقبہ 27,653 مربع میٹر ہے۔ جنوب مغرب میں واقع اس صوبے کی آبادی سات لاکھ سے زائد ہے جس کی 48 فی صد گاو ¿ں بستیوں اور باقی شہروں میں رہتے ہیں۔ صوبہ بوشہر کی سرحدیں شمال کی جانب سے صوبہ خوزستان اور صوبہ کہگیولیہ و بویراحمد، جنوب سے صوبہ ہرمزگان کے کچھ حصے اور مشرقی سرحدوں سے صوبہ فارس سے جاملتی ہیں۔ بوشہر کی مغربی سرحدیں سمندر سے لگتی ہیں جو 200 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے صوبے کے پاس انتہائی اہم اور اسٹریٹجک معاشی مواقع ہیں۔

آبادی کا حجم:
تازہ ترین سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبہ بوشہر کی کل آبادی 743275 ہے۔ 50 فی صد سے زائد آبادی دیہاتی زندگی گزار رہی ہے۔ دیہات بستیوں میں رہنے والوں کی تعداد روبہ زوال ہے۔ اس زوال کی اہم وجوہات میں ضروریات زندگی کی شدید قلت، بعض علاقوں میں پانی کی کمی اور زراعت کے لیے نئے آلات کا فقدان شامل ہیں۔ علاوہ ازیں لوگوں کی مالی مشکلات اور کم آمدنی ودیگر مسائل کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد نے بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومت کا رخ کیا ہے۔ چونکہ صوبہ خلیجی ممالک کے قرب میں واقع ہے اس لیے بوشہریوں کی قابل ذکر تعداد نے ان عرب ملکوں میں بسنے اور روزی کمانے کو ترجیح دی ہے۔
بوشہری عوام کو اس حال میں ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جب صوبہ بوشہر قدرتی وسائل (تیل اور گیس) سے مالامال ہے۔ یہاں کی زمینیں زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ بڑے کارخانے، اکثر تیل کمپنیاں اور بوشہر ایٹمی پلانٹ سب صوبہ بوشہر ہی میں واقع ہیں۔ چنانچہ ایران کے قومی خزانے کی نصف آمدنی بوشہر سے حاصل ہوتی ہے۔ درآمدات کی 80 فی صد بھی صوبہ بوشہر سے عمل میں لائی جاتی ہیں۔ ان ذخائر و مواقع کی وجہ سے ہمسایہ صوبوں اور پورے ایران سے لوگوں کی بڑی تعداد نے بوشہر کا رخ کیا ہے مگر امتیازی سلوک کے شکار خود بوشہری دربدر ٹھوکریں کھارہے ہیں۔

بوشہر کی تاریخ پر ایک نظر:
موجودہ صوبہ بوشہر ”اہواز“ یا الاحواز خطے کا ایک جزو شمار ہوتا ہے۔ احواز انتہائی پرانا اور تاریخی علاقہ ہے۔ اس کی تہذیب کے زوال وعروج کی کہانیاں کافی لمبی ہیں۔ احواز میں قبل میلاد بڑی بڑی جنگیں رونما ہوئیں اور طویل عرصے تک معرکے برپا ہوتے رہے۔ اس خطے میں آثار قدیمہ کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ بعض شہر جن کے نام بعض مقدس کتب میں بھی آئے ہیں احواز ہی میں ہیں۔ ان شہروں اور مقامات کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔
احواز کی ثقافت وتہذیب اور شاندار تاریخ نسل اندر نسل منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔ اگر دنیا میں ایک ہی احوازی زندہ باقی ہو وہ ہرگز اپنے وطن، قومیت، تاریخ اور وجود وبقا سے خیانت نہیں کرے گا۔
احواز کا اہم جزو بوشہر 637ءسے لیکر 1258ءتک اسلامی خلافت اور ولایت بصرہ کے زیر انتظام رہا جسے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فتح کیا تھا۔ احواز اور بوشہر مغلیہ کے دور تک ارض خلافت کے جزو رہے یہاں تک کہ یہاں ایک کمزور عربی حکومت (1436ء۔ 1724ئ) قائم ہوئی۔ عثمانی وصفوی حکام نے اس حکومت کو تسلیم کرلیا۔ اس کے بعد ”کعبیہ“ حکومت معرض وجود میں آئی اور 1724ءسے 1925ءتک اس خطے کی خود مختاری وآزادی کی حفاظت کرتی رہی۔
دریائے کارون کی ترقی اور تجارت کیلیے اسے دوبارہ کھولنے سے یہ خطہ معاشی نقطہ نظر سے اہم حیثیت کا حامل علاقہ بن گیا۔ ریلوے ٹریک بچھانے سے ”احواز“ جس میں بوشہر بھی آتا ہے کی ترقی واہمیت دوچند ہوگئی۔

بوشہر میں اہل سنت والجماعت برادری:
صوبہ بوشہر کے دارالحکومت جس کا نام بھی ”بوشہر“ ہے شروع ہی سے اہل سنت کا شہر چلا آرہا ہے۔ بلکہ ”دشتی“ شہر جس کی تاسیس عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دست مبارک سے ہوئی بھی سنیوں کا شہر تھا۔ اس شہر میں سب سے پہلے جو خاندان آباد ہوا ”آل مذکور“ تھا جو سب سنی شافعی تھے۔ 1216ءمیں بحرین سے حسن آل عصفور بوشہر آیا اور لوگوں کو شیعہ بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اس فرد کی کارستانیوں کے نتیجہ میں یہاں اہل تشیع افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اَن سالوں میں آل عاشور، بحرینی مہاجرین اور آل امیر مرموقہ نے بھی ”دشتی“ کے سنی مسلمانوں کو شیعہ بنانے کی بڑی کوششیں کیں۔
بوشہر کے اہل سنت مسلمانوں کی اتنی لمبی تاریخ کے باوجود آج تک کوئی جامع تحقیق سامنے نہیں آئی کہ ان کے علماءکون تھے، ان کے دینی وتعلیمی مراکز کہاں تھے اور ان شخصیات کی کیا کیا سرگرمیاں تھیں؟ اس لیے ہمارے پاس بوشہری علماءکے حالات اور ممکنہ تصانیف وعلمی کاوشوں کے حوالے سے کافی معلومات نہیں ہے۔
بوشہر کے اہل سنت والجماعت کے معروف قبائل وخاندانوں میں سے ایک خاندان ”جامعی“ ہے جو قاجاریہ کے دور حکومت کے اوائل میں یہاں آباد تھا۔ اس قبیلے کے سربراہ ”شیخ ابراہیم“ قاجاریوںکے عہد میں بوشہر میں رہتے تھے۔ جامعی خاندان علم وعمل کے حوالے سے معروف تھا جن کے اپنے ذاتی مکتب خانے تھے اور اس قبیلے کے علماءدرس وتدریس سے مصروف تھے۔ دراصل اسی خاندان کے لوگ بوشہر میں امامت وخطابت کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اس خاندان کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہے البتہ تاریخی ماخذ ومصادر سے معلوم ہوتا ہے ”فتحعلی شاہ قاجار“ کے دور میں بوشہر کے سنی علمائے کرام کافی سرگرم تھے۔ اسی طرح ہمسایہ اسلامی ممالک سے علمی لحاظ سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔
آج کل بوشہر کے شہر میں اہل سنت والجماعت کی دو مسجدیں ہیں اور صوبے کے مختلف اضلاع اور شہروں مثلا ”عسلویہ‘ُ‘ اور ”کنگان“ میں ایک سو سے زائد مساجد موجود ہیں۔