- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

فیصل شہزاد اور جج میں مکالمہ

faisal_shahzad12رپورٹ(بی بی سی اردو ڈاٹ کام) اگر انتہاپسندی کا تعلق غربت اور فلاس سے ہے تو ان چیزوں میں سے کسی کا بھی دور تک تعل‍ق پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد سے نہیں لگتا تھا جسے منگل کی صبح نیویارک کے علاقے منہیٹن میں امریکی وفاقی عدالت نے نیویارک کے مشہور و مصروف ترین ٹائمز سکوائر پر ناکام حملے کے لیے اپنی وین میں بم رکھنے کے الزام میں چھ بار تا عمر قید کی سزا سنائی جو متواتر دن رات یعنی ’کنکرنٹ‘ جاری رہے گی۔

منگل کی صبح جب ٹائمز سکوائر پر بم نصب کرنے کی ناکام کوشش کے اعتراف کرنے والے فیصل شہزاد کو سزا سنائے جانے والی سماعت پر وفاقی مارشلوں نے جج مریم گولڈبرگ سیڈاربم کی عدالت میں پیش کیا تو کمرہ عدالت اور اس سے باہر ہرطرف وفاقی مارشل متعین تھے۔
جیل کے نیلے رنگ کے جمپ سوٹ اور سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی پہنے فیصل شہزاد کو پیش کیا گیا تو خاتون جج مریم گولڈبرگ نے فیصل شہزاد کو سزا سنائے جانے والی سماعت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے مقدمے کا پس منظر و مختصر تفصیلات پڑھ کر سنانے شروع کیے۔
فیصل شہزاد نے مقدمے کی سماعت کے دوران اعتراف کرتے ہوئے تب جج سے کہا تھا کہ وہ ایک نہیں سو بار اعتراف کرتے ہیں اور اس پر انہیں کسی بھی قسم کا پچھتاوا نہیں ہے۔
جب جج نے کھچا کھچ بھرے کمرہء عدالت میں میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیصل شہزاد کو بم نصب کرنے اور بے شمار مردوں، عورتوں او ر بچوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھنے کے الزامات میں تا عمر قید سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس پر فیصل شہزاہد نے زور سے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے۔
وفاقی عدالت نے فیصل شہزاد کو دس الزامات میں چھ بار تا عمر سزائے قید سنائی ہے۔ فیصل شہزاد کے خلاف دس الزامات میں عالمی دہشتگردی سے تعلق، پاکستان میں طلبان کے ہاتھوں دہشتگردی کی تربیت اور امریکہ میں وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنا اور نصب کرنا شامل ہیں۔
اپنے خلاف سزا کا فیصلہ سنتے ہی ملزم فیصل شہزاد نے جج سے کہا کہ ’امریکہ مزید حملوں کے لیے تیار رہے کہ اسلام کی جنگ ابھی شروع ہی ہوئی ہے۔‘
انہوں نے کمرہ عدالت میں کہا کہ ’امریکہ کو عنقریب اس جنگ میں شکست ہونی ہی ہے اور مسلمان اپنی جنگ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔‘
جج گولڈبرگ نے ملزم فیصل شہزاد سے کہا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں اور جیل میں انہیں بہت وقت ملے گا کہ وہ اس پر سوچیں اور پچھتائیں کہ انہوں نے لوگوں کی جانیں کیوں لینا چاہیں جبکہ قرآن ایسا سبق نہیں دیتا‘۔ فصیل شہزاد نے کہا کہ ’قرآن ہمیں اپنے دفاع کے لیے کہتا ہے۔‘ ایک موقع پر جج نے ان سے کہا کہ یہ آپ نے امریکیوں کو وسیع پیمانے پر ہلاک کرنے کی کوشش کی جبکہ آپ نے امریکی شہری ہوتے وقت امریکہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا تو انہوں نے کہا کہ ’حلف اٹھاتے وقت میرا مطلب حلف اٹھانا نہیں تھا‘ جس پر جج نے فیصل شہزاد سے کہا کہ ’اسکا مطلب آپ نے جھوٹا حلف اٹھایا تھا۔‘
پشاور کے قریب ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے امریکی نیچرلائيزڈ شہری فیصل شہزاد پاکستانی فضائیہ کے سابق وائس ایئر مارشل کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں کالج مکمل کیا، وال اسٹریٹ نیویارک میں ملازمت کی، نیویارک کی پڑوسی ریاست کنیکٹیکٹ کے مڈل کلاس لیکن امریکی حساب سے متمول مضافات میں رہتے تھے۔
مقامی امریکی میڈیا کے مطابق انکی بیوی حنا اپنے دو بچوں سمیت روپوش ہوگئی ہیں۔