غزہ/بیت المقدس(ایجنسیاں) غزہ کی پٹی کی حکمران اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے قاہرہ میں اپنے ایک سکیورٹی عہدے دار کی گرفتاری پر مصر کی مذمت کی ہے اور اسے ایک خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”جب ہم نے ان کی گرفتاری کے سلسلہ میں مصری حکام سے رابطہ کیا تو ہم ان کی جانب سے اختیار کیے گئے تاخیری حربوں پر حیران رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بھائی دبابش اور دوسروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مصری حکام کو اپنے اس رویے کا ابھی جواز پیش کرنا ہے”۔
مصرکے سرکاری اخبار الاہرام نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ ”دبابش پر مصر کی ریاستی سکیورٹی کے لیے ”ضرررساں”سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شُبہ ہے اور انہوں نے جدید کمیونیکشن آلات غزہ لے جانے کی کوشش کی تھی۔ان پر غزہ کی سرحد پرجنوری میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک مصری پولیس اہلکار کی ہلاکت کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے”۔
لیکن حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دبابش کی گرفتاری سے مصری، فلسطینی تعلقات کی مضحکہ خیزی کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ حالیہ مہینوں میں دبابش سمیت گرفتار کیے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کرے۔
انہوں نے خمیس دبابش کے حماس میں کردار کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی اور صرف یہ بتایا ہے کہ وہ ایک سرکاری عہدے دار ہیں اور وہ حماس کے متحارب فلسطینی دھڑے فتح کے ساتھ ماضی میں مذاکرات میں بھی شریک رہے تھے۔
برہوم کا کہنا تھا کہ دبابش سعودی عرب میں عمرہ اداکرنے کے بعد واپس آرہے تھے جبکہ اس سے پہلے مصری اخبار الاہرام نے اطلاع دی تھی کہ دبابش کو حماس کے دمشق میں واقع ہیڈکوارٹرز سے قاہرہ واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
مصر اور حماس میں قاہرہ کی ثالثی میں گذشتہ سال فلسطینی دھڑوں کے درمیان مصالحتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے سرد مہری پائی جارہی ہے۔حماس نے مصر پر اپنے متعدد کارکنان کو گرفتار کرنے اورانہیں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔
اسرائیلی فوج فلسطینی سرحد پر رہے گی
درایں اثناء اسرائیلی لیڈروں نے کہا ہے کہ صہیونی فوج مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی مشرقی سرحد پر موجود رہےگی۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل گابی اشکنزئی نے منگل کے روز ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ فوج اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی محاذآرائی کی صورت میں بالکل تیار ہے۔انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیل ان مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ نکلنے سے قبل ہی مختلف شرائط عاید کررہا ہے اور وہ یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کی مدت میں توسیع کرنے کو بھی تیارنہیں جبکہ فلسطینی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگراسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ مذاکرات کا بائیکاٹ کردیں گے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی معاہدے میں صہیونی ریاست کی سکیورٹی ان کے نزدیک اہمیت کی حامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اردن کی سرحد کے ساتھ اپنی فوجی موجودگی کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو امن معاہدے کے بعد مغربی کنارے میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے روکا جاسکے۔
نیتن یاہو نے سوموار کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سرحدوں پر صہیونی فوج تعینات کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن فلسطینیوں نے ان کی اس تجویز کو یکسرمسترد کردیا ہے اور کہا ہے اس سے ان کی مجوزہ ریاست کی خودمختاری ہی معرض خطر میں پڑجائے گی۔انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ اس کے بجائے علاقے میں بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے۔
لیکن صہیونی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجی اس صورت حال میں کام نہیں کرسکیں گے،اس لیے صرف صہیونی فوج ہی اسرائیلی ریاست کو سکیورٹی مہیا کرسکتی ہے۔اس کے ردعمل میں فلسطینی ترجمان حسام زملوط نے ایک بیان میں کہا کہ ”ایسا کبھی نہیں ہوگا اور کسی ایک اسرائیلی فوجی کو بھی مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست میں تعینات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی معاملات طے پاجاتے ہیں تو پھر بین الاقوامی فورس صورت حال کی مانیٹرنگ کرسکے گی اور سکیورٹی قائم کر سکے گی۔