اسلام کی طرف میلان میں اضافہ
العربیہ کے مطابق ریاست ورجینیا کے 33 سالہ مورن سکرنس کہتے ہیں کہ امریکا میں سالانہ 20 ہزار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ اسلام قبول کرنےوالوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ نائن الیون کے واقعات کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے امریکا میں نائن الیون کی دہشت گردی کی مذمت نے غیر مسلموں کو اسلام کے مطالعے کی طرف مائل کیا ہے۔
ریاست ورجینیا میں الھدیٰ اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر جمال غموس کہتے ہیں کہ ان کے پاس جب ایک مرتبہ کوئی غیر مسلم اسلام پربحث کے لیے آتا ہے تو اس کی اسلام میں دلچپسی بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ وہ بار بار آتا ہے اور بالآخر اس کا دل اسلام پر مطمئن ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں مساجد کے پھیلتے نیٹ ورک سے بھی غیر مسلم متاثر ہو رہے ہیں۔
وہ مساجد میں آتےہیں اور مسلمانوں کو عبادت کرتے دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔ غیر مسلموں کی اسلام کی طرف دلچسپی صرف ریاست ورجینیا ہی میں نہیں بلکہ امریکا کی دیگر ریاستوں میں قائم اسلامی مراکز بھی اسی طرح کے میلان کی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
براک اوباما اور اسلام
دوسری جانب افریقی نژاد سیاہ فام امریکی صدربراک اوباما کے بارے میں بیشتر امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ امریکا میں ان کے مسلمان ہونے کا تاثر دن بدن تقویت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ براک اوباما کی طرف سے اپنے مسیحی ہونے کے تکرار کے ساتھ اعلان کے باوجود صرف ایک تہائی امریکی انہیں عیسائی باور کرتے ہیں۔
حال ہی میں امریکا میں “ریلیجن اینڈ جنرلائف کلب”کے زیر اہتمام امریکی صدر کے مذہب سے متعلق کیے گئے عوامی سروے میں ہر پانچویں امریکی نے براک اوباما کو مسلمان تصور کیا ہے، جبکہ گذشتہ برس اسی طرح کے ایک سروے میں ہر دسویں امریکی نے اوباما کو مسلمان قرار دیا تھا۔
العربیہ کے مطابق امریکا میں ریپبلیکن سیاسی رہنماٶں کی اکثریت براک اوباما کے مسلمان ہونے کےتاثرسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ ریپبلیکن اس تاثر کو عام کر کے ڈیموکریٹس اور صدر براک اوباما کو کانگریس کے آئندہ انتخابات میں کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ریپبلیکن کے اس تاثر کے باوجود جہاں اوباما کی عوامی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی وہیں کانگریس میں آزاد ارکان میں 18 فیصد تعداد بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اوباما نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال امریکا میں ماضی کی بنسبت عوامی اور حکومتی سطح پر سیاست اور مذہب کے معاملات زیادہ موضوع بحث رہے ہیں۔بالخصوص نائن الیون کے حادثے کی یاد میں ریاست فلوریڈا اور کینساس کے پادریوں کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے اور گراٶنڈ زیرو کے مقام پر قرطبہ اسلامی مرکز کی تعمیر نے امریکی سیاسی حلقوں میں غیر معمولی ہل چُل پیدا کی جس کی بازگشت تاحال سنائی دے رہی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام