Categories: مشرق وسطی

فلسطینیوں کو اللہ غارت کرے: یہودی ربی کی بدعا

القدس(العربیہ) اسرائیل کی ایک انتہا پسند یہودی تنظیم کے سربراہ اور ربی عوفا دیا یوسف نے فلسطینی قوم اورصدرمحمود عباس کے حق میں بد دعا دی ہے۔ یہودی مذہبی پیشوا کا کہنا ہے کہ “خدا فلسطینیوں اور محمود عباس المعروف ابو مازن کو کسی متعدی اور موذی مرض میں مبتلا کرے اور انہیں فنا کرے”۔

یہودی مذہبی پیشوا نے فلسطینیوں سے اظہار نفرت ایک ایسے وقت کیا ہے جب اگلے ہفتے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات کی تیاریاں ہورہی ہیں۔
العربیہ کے مطابق 89 سالہ مذہبی پیشواعوفا دیا اسرائیل کے حکمراں اتحاد میں شامل انتہا پسند جماعت “شاس” کے سربراہ ہیں۔ ایک روز قبل انہوں نے ایک مذہبی تقریب کے دوران فلسطینی عوام اور صدر محمود عباس کے بارے میں نہایت نفرت آمیز انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوفا دیا یوسف کے بہ قول “فلسطینی زمین پر شر پھیلانے والی مخلوق ہیں۔ خدا یہودیوں کو ان سے نجات عطا فرمائے”۔
دوسری جانب اسرائیلی ریڈیو نے ایک رپورٹ میں شاس کےسربراہ کی تقریر کے چند اقتباسات نقل کیے ہیں، جن میں وہ فلسطینیوں کو ان الفاظ میں بدعا دیتے ہیں” اسرائیل سے نفرت کرنے والے فلسطینیوں کو خدا کسی مہلک مرض میں مبتلا کرے، یہ زندہ رہنے اور رحم کے قابل نہیں”۔
خیال رہےکہ عراق میں پیدا ہونے والے یہودی پیشوا نے سنہ 2001ء میں فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ کے دوران اسی طرح کے نفرت آمیز انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ نو سال قبل اپنے ایک فتوے میں عوفادیا نے یہودیوں پرزور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں اورعربوں کے قتل عام سے گریز نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ایک قابل نفرت مخلوق ہیں اور ان کے ساتھ رواداری سے کا سلوک “حرام” ہے۔
العربیہ کے مطابق عوفا دیا کا ماضی کے مختلف ادوار میں فلسطینیوں کے بارے میں مختلف نوعیت کا رویہ رہا ہے۔ سنہ 2001ء کے عربوں کے قتل عام کے جواز سے متعلق فتوے پر انہوں نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ “میری مراد وہ دہشت گرد عرب اور فلسطینی ہیں جو اسرائیل پر حملے کرتے ہیں جبکہ عام فلسطینی مراد نہیں”۔
قبل ازیں 90ء کے عشرے میں عوفادیا یوسف نے دیگر یہودی مذہبی رہ نماٶں کے برعکس فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان اراضی کے تبادلے کے معاہدے کی حمایت کی تھی۔
یاد رہے کہ عوفادیا یوسف 23 ستمبر سنہ 1920ء کو عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ اسرائیل میں سفاردیم یہودی فرقے کے سب سے متعبر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی جماعت شاس کے روحانی پیشوا ہیں اور یہ جماعت اسرائیلی کنیسٹ میں بھی شامل ہے۔
اپریل 2005ء میں ان پرایک قاتلانہ حملہ کیاگیا تھا۔ ان پرحملے کےالزام میں اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی تنظیم پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے تین ارکان کو گرفتار کررکھا ہے اور ان پراقدام قتل کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago