Categories: پاکستان

سیالکوٹ تشدد: سترہ ملزمان گرفتار

سیالکوٹ(بى بى سى) پنجاب پولیس کے اعلیْ افسروں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں دو سگے بھائیوں کو وحشیانہ تشدد سے ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث اٹھارہ میں سترہ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ چھ پولیس اہلکاروں نے بھی خود حکام کے حوالے کردیا ہے۔

اس بات کا اعلان تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ایڈیشنل آئی جی پولیس مشتاق سکھیرا نے اتوار کو سیالکوٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ملے ہیں اور قابل گرفتاری شواہد کی بنا پر ہی ان افراد کو گرفتار کیاگیا ہے۔
مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ دو بھائیوں کو سرعام تشدد کرکے ہلاک کرنے کے مقدمہ میں آٹھ میں سے سترہ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس کے دس اہلکاروں میں سے چھ نے خود پولیس کے سامنے سرنڈر کردیا ہے جن کو سوموار کے روز باضابطہ گرفتار کرلیا جائے گا۔
پندرہ اگست کو سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کی ہلاکت ہوگئی اور بعد میں ان بھائیوں کی لاش کو شہر میں گھمایا گیا۔اس واقعہ کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلوں نشر کیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا جبکہ وزیر اعلیْ پنجاب نے پولیس کے اعلیْ افسروں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی۔
نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم نے جو تفتیش کی ہے اسے مقامی پولیس کے حوالے کردیا جائے گا جو اس مقدمہ کا چالان مرتب کرے گی۔ایڈیشنل آئی جی پولیس نے بتایا کہ جن ملزموں کو گرفتار کیا گیا اب ان کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
ایک سوال پر مشتاق سکھیرا نے کہا کہ انہوں نے تفتیش کی ہے وہ اس کی تفضیلات میڈیا کو نہیں بتاسکتے کیونکہ یہ تفضیلات بتانے سے وہ کارروائی متاثر ہوسکتی ہے جو عدالت نے ابھی شروع کرنا ہے۔انہوں نے بتایا اس واقعہ کی فوٹیج کا بار بار دیکھا گیا جس کے بعد ملزموں کی شاخت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دو سگے بھائیوں کی تشدد کے ذریعے ہلاکت کے واقعے سے جہاں پولیس کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا ہے وہاں اس واقعے سے بیرون ملک پاکستان کا امیج بھی متاثر ہوا۔
مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ اس واقعہ کا مقدمہ بیس اگست کو درج کیا گیا جبکہ اکیس اگست کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گیں جس کے بعد بائیس اگست کو ان کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو بقول ان کے ایک قانونی ضرورت تھی۔
خیال رہے اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر کاظم علی ملک پر مشتمل ایک رکنی عدالتی کمیشن نے بھی اس واقعہ کی تحقیقات کی تھیں اور عدالتی کمیشن کے سربراہ کے بقول انہوں نے تحقیقات کی ہیں اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کی جائے گی۔
modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago