- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

مولانا عبدالحمید: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی رسالت اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے

molana-damenزاہدان کے مضافاتی علاقہ”کورین“ کی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے قرآنی آیت : «هل أتی علی الانسان حین من الدهر لم یکن شیئا مذکوراً» کی تلاوت کے بعد اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا اللہ تعالی کی نعمتیں انسانیت پر بے شمار ہیں۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کو عدم سے وجود بخشا، اس کی تخلیق کے بعد اسے سب سے بہترین شکل عطاء فرمائی۔ اللہ کی نعمتوں کی قدر اس وقت معلوم ہوجاتی ہے جب کوئی نعمت ہاتھ سے نکل جائے۔ بہرے کو کان کی نعمت اور نابینا شخص کو آنکھ کی نعمت کی عظمت معلوم ہے۔

خطیب اہل سنت نے خالق یکتا کی بعض مادی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا جب خطے میں قحط اور خشکسالی نے کئی سالوں تک لوگوں کو شدید متاثر رکھا تو پانی اور بارش کی عظیم نعمت کی قدر سب کو معلوم ہوئی۔ عوام شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا۔ جب ایسے حالات سر پر آتے ہیں تو پانی کی قدر معلوم ہوجاتی ہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے سرپرست دارالعلوم زاہدان نے معنوی نعمتوں کے حوالے سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا اللہ تعالی کی معنوی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت قرآن مجید اور رسالت نبوی ہے۔
اسلام، قرآن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم نعمتیں ہیں جو مادی نعمتوں سے کسی طرح ان کا تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ حتی کہ ماں باپ، بیوی اور اولاد، بہن بھائی جیسی نعمتیں اسلام وقرآن کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وبعثت وہ عظیم نعمت ہے جس کی بدولت ہم اللہ تعالی، آخرت، جنت اور جہنم نیز سعادت وکامیابی کی راہوں سے آشنا ہوئے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے : «لقد منّ الله علی المؤمنین إذ بعث فیهم رسولا من أنفسهم یتلو علیهم آیاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة و إن کانوا من قبل لفی ضلال مبین»؛ اللہ تعالی نے اس آیت میں تعلیم وتزکیہ اور قرآن کی تلاوت کو بعثت نبوی کے ثمرات و نتائج سے قرار دیا ہے۔
حابہ کی رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے محبت اور ہمہ تن اتباع کے بارے میں بات کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا صحابہ کرام رضي الله عنهم اجمعين زندگی کے ہر مرحلے میں، آسانی اور سختی کے حالات مین ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ودستورات کو جامہ عمل پہنایا۔ اس حوالے سے وہ کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے، ہرگز ذاتی مفادات کو آپ صلى الله عليه وسلم کے احکامات پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے غزوات میں حصہ لیا اور جان ومال کی قربانی سے دین کی نصرت کی۔ صحابہ کرام رضي الله عنهم اجمعين کے عظیم کارنامے کسی کی نظر سے مخفی نہیں۔ ان کی قربانیاں اس قدر قابل قدر وپسندیدہ ہیں کہ آج اگر پوری دنیا کے صلحاء و اولیاء اکٹھے ہوجائیں تو ایک ادنی صحابی کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالی نے ہوری صراحت کے ساتھ ان سے اپنی رضامندی کا اعلان کرکے انہیں جنت کا وعدہ دیا۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہوں نے پوری دنیا پر اسلام کا بول بالا کیا۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا صحابہ کرام نے دین اور ہدایت کی قدر کو پہنچان لیا تھا اسی لیے انہوں نے اپنا سب کچھ اسلام کے لیے قربان کردیا۔ لیکن آج کا مسلمان جو اپنی نسبت اسلام وقرآن سے کرتا ہے دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے، ذاتی مفادات کو دین کے تقاضوں پر برتری دیتا ہے۔ مسلمان ضعف ایمان کا شکار ہوچکے ہیں۔ اسی لیے ناجائز کاروبار اور سود خوری جیسی حرکتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔
گناہوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا دوگناہ ایسے ہیں جن کے مرتکبین کو اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم سے اعلان جنگ کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔ ایک گناہ کی بات قرآن پاک میں آئی ہے دوسرے کا تذکرہ احادیث میں۔ کتاب اللہ میں ”ربا“ کو اللہ تعالی اور اس کے رسول سے اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ احادیث نبوی میں اولیاء اللہ سے دشمنی کو اللہ رب العزت سے اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں آتا ہے: ” من عادیٰ لی ولیاً فقد آذنتہ للحرب۔“ اللہ تعالی نے ہر اس شخص سے جنگ کا اعلان کیا ہے جو اس کے دوستوں کی شان میں گستاخی کرے، الزام لگائے اور گندی زبان سے انہیں یاد کرے۔ اس لیے صحابہ کرام، اہل بیت اور اللہ تعالی کی نصرت سے فیض یاب ہونے والوں کی توہین کا مطلب اللہ تعالی سے اعلان جنگ ہے۔
جمعہ کی نماز کیلیے آنے والے نمازیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا گناہ ومنکرات سے دوری کرکے اسلام وقرآن کی نعمت کی قدر کو پہجانیے۔ ان نعمتوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان کا حق ادا کیجیے۔ مولانا عبدالحمید نے سب کو رزق حلال طلب کرنے، قناعت وسادہ زندگی کی ترغیب دی۔
نوجوانوں کو فیشن پرستی سے اجتناب کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا دینی ودنیاوی علوم میں مہارت کے حصول کے لیے محنت کیجیے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے والوں میں شامل ہوجائیے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے اپنے خطبہ کے دوسرے حصے میں حالات حاضره کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کل(ہفتہ بارہ جون) کادن ہے۔ ٹھیک ایک سال قبل اس دن میں متنازعہ صدارتی انتخابات منعقدہوئے جس کے بعد ملک میں وسیع پیمانے پراختلافات رونما ہوئے اور عوام کی صدائے شکایت بلندہوئی۔ چنانچہ فورسز کے مظاہرین پرحملوں کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق یا شدیدزخمی ہوئے۔
حضرت شیخ الاسلام نے متاثرین انتخابات سے ہمدردی ویکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مزیدکہا عوامی شکایات کے خاتمے کیلیے اور بھی آپشنز تھے، حکام اگر تدبیر ودوراندیشی سے کام لیکر بہترطریقے سے عوام کی شکایات دور کرتے تو یہ قیمتی جانیں ضائع نہ ہوچکی ہوتیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ملک (ایران)کا سب سے بڑا بحران آئین سے چشم پوشی اور اس کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالناہے۔ اہل سنت برادری کے مسائل اورمشکلات کی جڑ بھی آئین کے صحیح نفاذ سے روگردانی ہے۔ اگرقانون صحیح طریقے سے نافذہوجائے تومعاشرے کی اکثریت کی شکایات دور ہوجائیں گی۔
عظیم سنی رہنما نے ملکی آئین کی ترمیم کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا آئین آسمان سے اتری ہوئی وحی نہیں ہے کہ غلطیوں سے پاک ہو۔ یہ انسانوں کی سوچ وفکر کے نتیجے میں مرتب ہونے والی چیز ہے جس میں خطا اور غلطی کا امکان موجود ہے۔ تیس سال کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آئین کی بعض شقوں میں ترمیم واصلاح ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا میری خیرخواہا نہ د رخواست اور اپیل یہ ہے کہ “اسلامی جمہوریہ”، ملی وقومی اتحاد اور یکجہتی کی بقا اور حفاظت کیلیے آئین کی بعض شقوں پرنظرثانی کی جائے، خاص طور پرانتخابات کے حوالے سے مرتب کیے گیے قوانین کی ترمیم بہت ضرورری ہے ورنہ عوام کی شکایات کا ازالہ مشکل ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے کہا کہ حالیہ صدارتی الیکشن کے بعد رونماہونے والے افسوسناک واقعات سے ثابت ہوا کہ موجودہ قوانین میں نقص پایا جاتاہے۔ الیکشن اس طرح منعقد ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور معائنہ کاروں کی نگرانی سے پریشانی محسوس نہ ہو اور ہم دنیا کو باور کراسکیں کہ سب سے معیاری انتخابات ایران میں منعقد ہوتے ہیں۔