- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

پیر طریقت حضرت خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله

khatm-nubuwatعظیم لوگ خاموشی سے قیادت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔میں نے خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله کے ساتھ بہت ساری نشستوں میں کئی کئی گھنٹے گزار ے ہیں وہ ہمیشہ ختم نبوت کی کانفرنسوں میں کرسیٴ صدارت پر رونق افروز ہوتے تھے۔نہ افتتاحی کلمات کہتے تھے نہ اختتامی کلمات۔ اپنی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا اظہار اشاروں کنایوں میں کر دیتے تھے۔ مولانا اللہ وسایہ انکے دست راست تھے و ہ ان کی رضار مندی حاصل کر لیتے تھے اور اس کے مطابق کانفرنس کی قراردادیں اور اس کے پروگرام کی تشکیل کر دیتے تھے۔

ایک بار اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل کے ہال میں ختم نبوت کی مجلس کے زیراہتمام علماء کی ایک مجلس منعقد ہورہی تھی۔مجلس ختم نبوت کا یہ طرہٴ امتیاز تھا کہ اس میں ہر مکتب فکر کے مسلما ن شریک ہوا کرتے تھے۔میری تقریر کے دوران میں ایک عالم دین کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ تم علماء کی مجلس میں ان پر تنقید کر کے اچھا نہیں کر رہے ہو۔دراصل میں انہیں متوجہ کررہا تھا کہ علماء کی مجالس بوریا نشینوں کے شایانِ شان طریقے پر مساجد یا مدارس کے ہالوں میں منعقد ہوا کرتی تھیں جو عوام و خواص کے لئے کھلی رہتی تھیں اور جن میں اس ملک کے غریبوں اور فقیروں کو داخل ہوتے ہوئے کوئی جھجک نہیں ہوتی تھی۔یہی لوگ دراصل انقلاب اور تبدیلی لانے والے ہوتے ہیں۔علماء کے خلاف یہ سازش کی گئی ہے کہ انہیں بڑے ہوٹلوں اور بڑی شان و شوکت والے ہالوں میں اپنے جلسے منعقد کرنے کے لئے وسائل فراہم کر دیئے جاتے ہیں تاکہ انہیں اپنے حقیقی دائرہٴ اثر سے منقطع کردیا جائے ۔غریب اور فقیر لوگ ان کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہوئے جھجھک محسوس کریں اور وہ اپنے تیٴں یہ سمجھیں کہ وہ شاندار ہوٹلوں میں قیا م کر کے دین کی بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور بڑے لوگوں تک ان کی بات پہنچ رہی ہے۔ جس صاحب نے میری تقریرکے دوران کھڑے ہوکر اعتراض کیا میں نے ان سے عرض کی کہ اگر میری بات انہیں اچھی نہیں لگ رہی تومیں بیٹھ جاوٴں اور اپنی بات یہیں ختم کرلوں۔حضرت خواجہ ربانی رحمه الله نے اپنے معمول کے مطابق کچھ کہے بغیر ان صاحب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مجھے اپنی بات جاری رکھنے کا اشارہ فرما دیا۔
قادیانیوں کے ربوہ کے قریب مسلمانوں نے ربوہ ہی کے نام سے اپنا ایک مرکز قائم کیا ہے جس میں مجلس ختم نبوت نے ایک ایک مسجد مدرسہ اور قیام گاہ تعمیر کررکھی ہے اور اس میں سالانہ جلسہ ہوتا ہے جس میں ہر مکتب فکر کے دینی جماعتوں کے قائدین شرکت کرتے ہیں۔ مجھے شرکت کی دعوت دینے کے لئے مجلس ختم نبوت کا ایک وفد حضرت خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله کا خط لے کر آیا اور ان کی دعوت پر میں شریکِ اجتماع ہوا۔ مجھے تقریر کی دعوت دی گئی تو چند افراد نے جلسہ گاہ میں اودھم مچا دی یہ افراد اس تنظیم سے تعلق رکھتے تھے جنہیں کسی بھی حوالے سے مسلمانوں کا اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتاظاہر ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے اتحاد پر مخالف ہوں وہ مسلمانوں کے خیر خواہ تو نہیں ہو سکتے۔اختلاف پید ا کرنا تو آسان ہے اور اختلاف تو ایک گھر کے مکینوں اور سگے بھائیوں اور بہنوں میں ہوتا ہے اورایک ہی مسلک اور ایک جماعت میں بھی لوگوں کی آراء میں اختلات ہوتا ہے اور اس اختلاف کو نظر انداز کرکے ہی لوگ مشترکات پر جمع ہو سکتے ہیں اور ہم نے ہمیشہ مسلمانوں کو ” قدر مشترک“ اور ” درد مشترک“ پر جمع ہونے کی تلقین کی ہے لیکن افسوس کہ کچھ لوگ ” ترجیحات “ اور ”اولویات“ کا شعور نہیں رکھتے اور ترجیحات کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے اختلافات کو بڑا بنا دیتے ہیں اور مشترکا ت پر اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
اودھم مچانے والوں کو سب لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔حضرت خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله نے حسب معمول اپنی ناپسندیدگی کا اظہار خاموش احتجاج کے ذریعے سے کیا اور کرسیٴ صدارت چھوڑ کرمجھے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا ۔ جلسہ کے منتظمین نے تقریباً تیرہ (13 ) افراد کو قابو کر کے کمرے میں بند کر دیا اور ہمیں دوبارہ جلسہ منعقد کرنے اور اپنی تقریر جاری رکھنے کے لئے کہا۔ خواجہ ربانی رحمه الله نے پھر اپنی صدارتی نشست سنبھالی اور جلسہ پہلے سے زیادہ صبر و سکون اور انہماک کے ساتھ جاری رہا۔
مدرسہٴ شیرانوالہ میں میر اپہلا تعارف آج سے تیس برس پہلے مولانا منظور احمد چینوٹی مرحوم نے حضرت خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله سے کرایا۔ ان دنوں میں جماعت اسلامی پاکستان کا قیم (سیکرٹری جنرل ) تھا۔ مولانا منظور احمد چینوٹی مرحوم میرے بڑے بھائیوں مولانا عبدالسبوح قاسمی رحمه الله اور مولانا محمد عبدالقدوس قاسمی رحمه الله کے دیو بند کے ہم سبق تھے۔ میرے بڑے بھائیوں کویہ اعزاز حاصل تھا کہ و ہ ایک طرف تو دیو بند کے ممتاز علماء میں شامل تھے اور مولانا سید حسین احمد مدنی رحمه الله کے خاص شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا تھا اور دوسری طرف وہ عصری علوم میں ایک مقام رکھتے تھے چنانچہ مولانا عبدالقدوس صاحب پشاور یونیورسٹی میں علوم اسلامیہ کے شعبے کے صدر اور مولانا عبدالسبوح رحمه الله فاضل دیو بند ہونے کے ساتھ ساتھ کولمبیا یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں پی ایچ ڈی (PHD ) تھے لیکن دارالعلوم دیو بند ،اپنے اساتذہ اور دیو بند کے ہم سبق فضلاء کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کو آخری دم تک برقرار رکھا ۔مولانا منظور احمد چینوٹی مرحوم بھی اسی حوالے سے بھائیوں کی طرح محبت اور بے تکلفی برتتے تھے مجھے خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله سے متعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ حضرت دیکھیں ” کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را “ان دنوں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام میں چپقلش تھی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فارسی کا ایک مشہور شعر پڑھا !
” غنی روز سیاہ پیر کنعان را تماشہ کن ۔ کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را “
غنی (شاعر کانام) کنعان کے بزرگ ( حضرت یعقوب علیہ السلام ) کی سیاہ بختی کا تماشا دیکھیوکہ اس کے آنکھوں کا نور (حضرت یوسف علیہ السلام) زلیخا کی آنکھو ں کا نور بنا ہوا ہے۔میں نے عرض کی کہ یہ آپ کی بدگمانی ہے میں اس وقت بھی دین کی خدمت میں لگا ہواہوں اور تمام علماء حق سے میری عقیدت میں کوئی فرق نہیں آیا اور مسلمانوں کو ” قدر مشترک “ اور ” درد مشترک “ پر جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ حضرت خواجہ خان محمد ربانی رحمه الله نے حسب معمول تبسم فرمایا اور زبان سے انہوں نے کچھ نہیں کہا۔
”تبسمے بہ لب او رسید و ہیچ نہ گفت“
انکے ہونٹوں پر ایک تبسم پھیل گیا اور انہوں نے کچھ نہیں کہا۔
ان کی زندگی میں بارہا ارادہ کیا کہ ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے خانقاہ سراجیہ میں حاضری دوں لیکن گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے موقع نہیں ملا۔ ان کی وفات کی خبر مجھے اس وقت ملی جب میں جامعةالرشید کراچی میں حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب کی مجلس میں حاضر تھا۔ نوجوان علماء کی مجلس تھی مجھے حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب نے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو اور تبادلہ خیال کے لئے دو دن اپنے جامعہ میں گزارنے کی دعوت دی تھی۔پوری مجلس نے حضرت کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔جنازے میں شرکت کی سعادت سے محروم رہا ۔ ایک برکت اُٹھ گئی ایک خلاء پیدا ہوگیا ۔اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس خلاء کوپُر کر دے۔ان کی اولاد میں فاضل علماء موجود ہیں جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں ۔ ختم نبوت کا پلیٹ فارم ایک وقت میں مسلمانوں کے اتحاد کا پلیٹ فارم تھا۔حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی حیات میں شیعہ علماء بھی جلسوں میں شرکت کرتے تھے لیکن ایک گروہ نے اتحاد کی فضا کو ایسا برباد کیا کہ اکٹھے ہونے کی کوئی جگہ باقی نہیں چھوڑی ۔اب پھر اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ دینی جماعتوں کا سیاسی نہ سہی کم از کم غیر سیاسی مشترک پلیٹ فارم وجود میں آ جائے جو مسلمانو ں کے عمومی اتحاد کا پیش خیمہ ثابت ہواور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر جو شرارتیں ہو رہی ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مشترک حکمت عملی بنائی جاسکے۔

قاضی حسین احمد
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)